کلامِ امیرردیف ن

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں

۱

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیںتمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

۲

تڑپ کے روح یہ کہتی ہے ہجر جاناں میںکہ تیرے ساتھ دل بے قرار ہم بھی ہیں

۳

رہے دماغ اگر آسماں پہ دور نہیںکہ تیرے کوچہ میں مست غبار ہم بھی ہیں

۴

کہو کہ نخل چمن ہم سے سرکشی نہ کریںانہیں کی طرح سے باغ و بہار ہم بھی ہیں

۵

ہمارے آگے ذرا ہو سمجھ کے زمزمہ سنجکہ ایک نغمہ سرا اے ہزار ہم بھی ہیں

۶

کہاں تک آئنے میں دیکھ بھال ادھر دیکھوکہ اک نگاہ کے امیدوار ہم بھی ہیں

۷

شراب منہ سے لگاتے نہیں ہیں اے زاہدفراق یار میں پرہیزگار ہم بھی ہیں

۸

ہمارا نام بھی لکھ لو جو ہے قلم جاریقدیم آپ کے خدمت گزار ہم بھی ہیں

۹

ہما ہیں گرد مری ہڈیوں کے آٹھ پہرسگ آ کے کہتے ہیں امیدوار ہم بھی ہیں

۱۰

جو لڑکھڑا کے گرے تو قدم پہ ساقی کےامیرؔ مست نہیں ہوشیار ہم بھی ہیں

۲۰ / ۴۷