کلامِ امیرردیف ق

ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق

۱

ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشقنہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشق

۲

ہے وہی آنکھ جو مشتاق ترے دید کی ہوکان وہ ہیں جو رہیں تیری خبر کے عاشق

۳

جتنے ناوک ہیں کماندار ترے ترکش میںکچھ مرے دل کے ہیں کچھ میرے جگر کے عاشق

۴

برہمن دیر سے کعبے سے پھر آئے حاجیتیرے در سے نہ سرکنا تھا نہ سرکے عاشق

۵

آنکھ دکھلاؤ انہیں مرتے ہوں جو آنکھوں پرہم تو ہیں یار محبت کی نظر کے عاشق

۶

چھپ رہے ہوں گے نظر سے کہیں عنقا کی طرحتوبہ کیجے کہیں مرتے ہیں کمر کے عاشق

۷

بے جگر معرکۂ عشق میں کیا ٹھہریں گےکھاتے ہیں خنجر معشوق کے چرکے عاشق

۸

تجھ کو کعبہ ہو مبارک دل ویراں ہم کوہم ہیں زاہد اسی اجڑے ہوئے گھر کے عاشق

۹

کیا ہوا لیتی ہیں پریاں جو بلائیں تیریکہ پری زاد بھی ہوتے ہیں بشر کے عاشق

۱۰

بے کسی درد و الم داغ تمنا حسرتچھوڑے جاتے ہیں پس مرگ یہ ترکے عاشق

۱۱

بے سبب سیر شب ماہ نہیں ہے یہ امیرؔہو گئے تم بھی کسی رشک قمر کے عاشق

۱۸ / ۴۷