کلامِ امیرردیف ق
ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشق
ہیں نہ زندوں میں نہ مردوں میں کمر کے عاشقنہ ادھر کے ہیں الٰہی نہ ادھر کے عاشق
ہے وہی آنکھ جو مشتاق ترے دید کی ہوکان وہ ہیں جو رہیں تیری خبر کے عاشق
جتنے ناوک ہیں کماندار ترے ترکش میںکچھ مرے دل کے ہیں کچھ میرے جگر کے عاشق
برہمن دیر سے کعبے سے پھر آئے حاجیتیرے در سے نہ سرکنا تھا نہ سرکے عاشق
آنکھ دکھلاؤ انہیں مرتے ہوں جو آنکھوں پرہم تو ہیں یار محبت کی نظر کے عاشق
چھپ رہے ہوں گے نظر سے کہیں عنقا کی طرحتوبہ کیجے کہیں مرتے ہیں کمر کے عاشق
بے جگر معرکۂ عشق میں کیا ٹھہریں گےکھاتے ہیں خنجر معشوق کے چرکے عاشق
تجھ کو کعبہ ہو مبارک دل ویراں ہم کوہم ہیں زاہد اسی اجڑے ہوئے گھر کے عاشق
کیا ہوا لیتی ہیں پریاں جو بلائیں تیریکہ پری زاد بھی ہوتے ہیں بشر کے عاشق
بے کسی درد و الم داغ تمنا حسرتچھوڑے جاتے ہیں پس مرگ یہ ترکے عاشق
بے سبب سیر شب ماہ نہیں ہے یہ امیرؔہو گئے تم بھی کسی رشک قمر کے عاشق
۱۸ / ۴۷