گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں
یہ ضعف ہے کہ نکلتی نہیں ہیں اب دل سےکبھی فلک سے بھی اونچی ہماری آہیں تھیں
About this couplet
This is couplet 7 of 13 in “گلے میں ہاتھ تھے شب اس پری سے راہیں تھیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Amir Minai's Urdu book Kalam-e-Amir (کلامِ امیر).
Read it in the poem۷ / ۱۳