کلامِ امیرردیف ن

دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیں

۱

دل جدا مال جدا جان جدا لیتے ہیںاپنے سب کام بگڑ کر وہ بنا لیتے ہیں

۲

ہو ہی رہتا ہے کسی بت کا نظارہ تا شامصبح کو اٹھ کے جو ہم نام خدا لیتے ہیں

۳

مجلس وعظ میں جب بیٹھتے ہیں ہم میکشدختر رز کو بھی پہلو میں بٹھا لیتے ہیں

۴

ایسے بوسے کے عوض مانگتے ہیں دل کیا خوبجی میں سوچیں تو وہ کیا دیتے ہیں کیا لیتے ہیں

۵

اپنی محفل سے اٹھائے ہیں عبث ہم کو حضورچپکے بیٹھے ہیں الگ آپ کا کیا لیتے ہیں

۶

بت بھی کیا چیز ہیں اللہ سلامت رکھےگالیاں دے کے غریبوں کی دعا لیتے ہیں

۷

شاخ مرجاں میں جواہر نظر آتے ہیں امیرؔکبھی انگلی جو وہ دانتوں میں دبا لیتے ہیں

۲۶ / ۴۷