کلامِ امیرردیف ن

آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں

۱

آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیںدریا تیری رحمت کے یہ لہرائے ہوئے ہیں

۲

اللہ ری حیاء حشر میں اللہ کے آگےہم سب کے گناہوں پہ وہ شرمائے ہوئے ہیں

۳

میں نے چمن خلد کے پھولوں کو بھی دیکھاسب آگے ترے چہرے کے مرجھائے ہوئے ہیں

۴

بھاتا نہیں کوئی ، نظر آتا نہیں کوئیدل میں وہی آنکھوں میں وہی چھائے ہوئے ہیں

۵

روشن ہوئے دل پر تو رخسار نبی سےیہ ذرے اسی مہر کے چمکائے ہوئے ہیں

۶

شاہوں سے وہیں کیا جو گدا ہیں ترے در کےیہ اے شاہ خوباں تری شہ پائے ہوئے ہیں

۷

آئے ہیں جو وہ بے خودی ءِ شوق کو سن کراس وقت امیر آپ میں ہم آئے ہوئے ہیں

۲۷ / ۴۷