کلامِ امیرردیف و
پہلے تو مجھے کہا نکالو
۱
پہلے تو مجھے کہا نکالوپھر بولے غریب ہے بلا لو
۲
بے دل رکھنے سے فائدہ کیاتم جان سے مجھ کو مار ڈالو
۳
اس نے بھی تو دیکھی ہیں یہ آنکھیںآنکھ آرسی پر سمجھ کے ڈالو
۴
آیا ہے وہ مہ بجھا بھی دو شمعپروانوں کو بزم سے نکالو
۵
گھبرا کے ہم آئے تھے سوئے حشریاں پیش ہے اور ماجرا لو
۶
تکیے میں گیا تو میں پکاراشب تیرہ ہے جاگو سونے والو
۷
اور دن پہ امیرؔ تکیہ کب تکتم بھی تو کچھ آپ کو سنبھالو
۲۸ / ۴۷