کلامِ امیرردیف ظ
چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظ
۱
چپ بھی ہو بک رہا ہے کیا واعظمغز رندوں کا کھا گیا واعظ
۲
تیرے کہنے سے رند جائیں گےیہ تو ہے خانۂ خدا واعظ
۳
اللہ اللہ یہ کبر اور یہ غرورکیا خدا کا ہے دوسرا واعظ
۴
بے خطا میکشوں پہ چشم غضبحشر ہونے دے دیکھنا واعظ
۵
ہم ہیں قحط شراب سے بیمارکس مرض کی ہے تو دوا واعظ
۶
رہ چکا میکدے میں ساری عمرکبھی مے خانے میں بھی آ واعظ
۷
ہجو مے کر رہا تھا منبر پرہم جو پہنچے تو پی گیا واعظ
۸
دخت رز کو برا مرے آگےپھر نہ کہنا کبھی سنا واعظ
۹
آج کرتا ہوں وصف مے میں امیرؔدیکھوں کہتا ہے اس میں کیا واعظ
۱۷ / ۴۷