کلامِ امیرردیف ذ

کیا روکے قضا کے وار تعویذ

۱

کیا روکے قضا کے وار تعویذقلعہ ہے نہ کچھ حصار تعویذ

۲

چوٹی میں ہے مشک بار تعویذیا فتنۂ روزگار تعویذ

۳

دونوں نے نہ درد دل مٹایاگنڈے کا ہے رشتہ دار تعویذ

۴

کیا نام علی میں بھی اثر ہےچاروں ٹکڑے ہیں چار تعویذ

۵

ڈرتا ہوں نہ صبح ہو شب وصلہے مہر وہ زرنگار تعویذ

۶

ہم کو بھی ہو کچھ امید تسکیںکھوئے جو تپ خیار تعویذ

۷

پتاں کو جڑ ہماری پہنچیگاڑا تہہ پائے یار تعویذ

۸

حاجت نہیں ان کو نورتن کیبازو پہ ہیں پانچ چار تعویذ

۹

کھٹکے وہ نہ آئے فاتحے کودیکھا جو سر مزار تعویذ

۱۰

پی جائیں گے گھول کر کسے آپہے نقش نہ خاکسار تعویذ

۱۱

اے ترک ٹلیں بلائیں سر سےاک تیغ کا خط ہزار تعویذ

۱۲

ڈر ہے تمہیں کنکنوں سے لازملایا تو ہے سادہ کار تعویذ

۱۳

اکسیر کا نسخہ اس کو سمجھوںکھوئے جو ترا غبار تعویذ

۱۴

مجمع ہے امیرؔ کی لحد پرمیلے کا ہے اشتہار تعویذ

۱۶ / ۴۷