جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

موت آئی اُدھر، نیمچے دونوں جدھر آئےجب ہاتھ بڑھا، پاؤں پہ کٹ کٹ کے سر آئےگر سینے تک آئے تو، کبھی تا کمر آئےخالی نہ پھرے، جس پہ گئے، خوں میں بھر آئےہر نیمچہ، بجلی تھا ستمگاروں کے حق میںڈوبے ہوئے تھے دو مہِ نو، خوں کی شفق میں

About this couplet

This is couplet 124 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۴ / ۱۵۰