جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

اٹھتی تھی نہ ڈر سے کسی خوں خوار کی گردنسر خود کا جھک جاتا تھا، تلوار کی گردندو چار کے منہ کٹ گئے، دو چار کی گردناسوار کا سر اڑ گیا، رہوار کی گردندو نیمچے بجلی سے گزرتے تھے کمر سےآدھے ہوئے جاتے تھے لعیں جان کے ڈر سے

About this couplet

This is couplet 125 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۵ / ۱۵۰