جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
دو چھوٹی سی تیغوں سے قیامت نظر آئیمعصوموں کے ہاتھوں سے کرامت نظر آئیسر کٹنے کی، اعدا کے علامت نظر آئیلو ہے کی سپر بھی نہ سلامت نظر آئیبے وجہ نہ پھر جاتے تھے منہ اہلِ جفا کےدریا کے تھپیڑے تھے، طمانچے تھے قضا کے
About this couplet
This is couplet 126 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۲۶ / ۱۵۰