جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

گردن سے بڑھے کاٹ کے پیکر نکل آئےجوشن کو دکھاتے ہوئے جوہر نکل آئےچار آئینہ میں تیر کے باہر نکل آئےصابون سے دو تار برابر نکل آئےمحراب کے نیچے کسے جھکتے نہیں دیکھامچھلی کو بندھے پانی میں رکتے نہیں دیکھا

About this couplet

This is couplet 127 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۷ / ۱۵۰