جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

ہر غول میں غلطاں و تپاں تھے سرو پیکردستانے کہیں تھے، کہیں ڈھالیں، کہیں مغفرجب نیمچے ان دونوں کے اٹھتے تھے برابرمنہ خوف سے ڈھالوں میں چھپاتے تھے ستم گرروکے انہیں، طاقت یہ نہ تھی پیر و جواں کیصورت نظر آنے لگی تیغِ دو زباں کی

About this couplet

This is couplet 128 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۸ / ۱۵۰