جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

غارت تھی وہ صف جس سے وِغا کرکے پھرے وہدو ہاتھ میں سو سو کو فنا کرکے پھرے وہسرداروں کے سر تن سے جدا کرکے پھرے وہہر غول میں اک حشر بپا کرکے پھرے وہغل تھا کہ پرے ٹوٹے ہوئے جم نہیں سکتےسر کٹنے کی دہشت سے قدم تھم نہیں سکتے

About this couplet

This is couplet 129 of 150 in “⁨جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱۲۹ / ۱۵۰