جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
گھوڑے تھے چھلاوا، کبھی یاں تھے کبھی واں تھےپتلی میں تو پھرتے تھے، پر آنکھوں سے نہاں تھےیاں تھے جو سبک رو تو ادھر گرم عناں تھےبجلی تھے کسی جا تو کہیں آبِ رواں تھےہو سکتی تھی بجلی سے یہ سرعت نہ ہرن سےجھونکے تھے ہوا کے کہ نکل جاتے تھے سَن سے
About this couplet
This is couplet 130 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۳۰ / ۱۵۰