جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
ایک ایک جواں، زیورِ جنگی کو سنوارےنیزوں کی چمک اور وہ سمندر کے طرارےجعفرؔ کے جگر بند، ید اللہ کے پیارےرستم سے ہر اک جنگ کرے شیر کو مارےسیاف ہو مرحبؔ سا، تو شمشیر سے ماریںارجنؔ سے کماندار کو، اک تیر سے ماریں
About this couplet
This is couplet 91 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۱ / ۱۵۰