جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
کم سن کئی لڑکوں کا جدا غول تھا سب سےسوئے بھی نہ تھے، ولولۂ جنگ میں ، شب سےرو کے ہوئے باگوں کو، شہِ دیں کے ادب سےاعدا کی طرف دیکھتے تھے، چشمِ غضب سےہتھیار جو باندھے تھے تو کیا تن پہ کُھلے تھےسب نیمچے تولے ہوئے مرنے پہ تُلے تھے
About this couplet
This is couplet 92 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۲ / ۱۵۰