جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
وہ چاند سا منہ، اور وہ گورے بدن، ان کےشرمندہ ہو غنچے بھی، وہ نازک دہن ان کےیوسف کی طرح عطر فشاں پیرہن ان کےمرکر وہی کپڑے ہوئے آخر کفن ان کےکیا حسنِ عقیدت تھا عجب دل کے جواں تھےآقا پہ فِدا ہونے کو سب ایک زباں تھے
About this couplet
This is couplet 93 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۳ / ۱۵۰