جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی
عمریں تو کم و بیش، یہ سب گیسوؤں والےاِک غول میں تھے چاند کئی اور کئی ہالےذی مرتبہ سیدانیوں کو گود کے پالےغنچہ تھا وہ سب، اکبرِؔ گل رو کے حوالےان تازہ نہالوں میں نمودار یہی تھےاس گلشنِ یک رنگ کے مختار یہی تھے
About this couplet
This is couplet 94 of 150 in “جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۴ / ۱۵۰