جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا
جب بڑھ کے سن سے صورتِ تیغ علی چلیثابت ہوا کہ ضربتِ دستِ ولی چلیدل پر خفی چلی تو گلوں پر جلی چلیتن سے نکل کے روح پکاری چلی چلیدی تیغ نے صدا کہ ارادہ کدھر کا ہےچلائی موت چل یہی رستا سقر کا ہے
About this couplet
This is couplet 122 of 156 in “جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۲۲ / ۱۵۶