آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

تم تو آگاہ ہو، شبیر نے جو دکھ پائےپر نہیں حرف شکایت کے ، زباں پر لائےسر کو نیوڑا لیا جب ذبح کو قاتل آئےہم نے امت کے لیے چھاتی پہ نیزے کھائےاتنی سی بات پہ مصروفِ بکا ہوتی ہوتم چھڑی ہونٹوں پہ رکھنے سے خفا ہوتی ہو

About this couplet

This is couplet 38 of 40 in “⁨آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۸ / ۴۰