آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
کہیں دم لینے کو سایہ نہیں، ہے وقت زوالاینٹھی جاتی ہے زباں پیاس کی شدت ہے کمالکبھی زینبؔ کا ہے غم گاہ سکینہؔ کا خیالدن جو ڈھلتا ہے تو حضرت ہوئے جاتے ہیں نڈھالمثلِ خورشید، بدن ضعف سے تھراتا ہےنیر برجِ امامت پہ زوال آتا ہے
About this couplet
This is couplet 10 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۱۰ / ۵۵