آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
کوئی سید کا نہیں آہ، بچانے والاحربے لاکھوں ہیں، اور اک زخم اٹھانے والاپیاس میں کوئی نہیں، پانی پلانے والاسنبھلے کس طرح بھلا، برچھیاں کھانے والاچرخ سے آگ برستی ہے زمیں جلتی ہےمارے گرمی کے زباں خشک ہے، لُو چلتی ہے
About this couplet
This is couplet 9 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹ / ۵۵