آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
گیسو آلودۂ خوں لپٹے ہیں رخساروں سےشانے کٹ کٹ کے لٹک آئے ہیں تلواروں سےتیرہ پیوست ہیں خوں بہتا ہے سوفاروں سےلاکھ آفت میں ہے اک جان دل آزاروں سےفکر ہے سجدۂ معبود ہیں سر دینے کیدار سے تیغوں کے فرصت نہیں، دم لینے کی
About this couplet
This is couplet 3 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳ / ۵۵