آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
خون سے تر پیچ عمامے کے ہیں سر زخمی ہےہے جبیں چاند سی پر نور مگر زخمی ہےسینہ سب برچھیوں سے تا بہ کمر زخمی ہےتیرِ بیداد سے دل زخمی، جگر زخمی ہےضربِ شمشیر سے بیکار ہیں بازو دونوںظلم کے تیروں سے مجروح ہیں پہلو دونوں
About this couplet
This is couplet 4 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴ / ۵۵