آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

کہتا تھا فوج میں سب سے عمر بد اخترکھنچے کیوں تیغوں کو ہاتھوں میں کھڑے ہو ششدرریگِ تفتیدہ پہ ہے غش میں، علیؔ کا دلبرجاؤ کیا دیر ہے ، کاٹو شۂ مظلوم کا سرتیغ سے فاطمہؔ زہرا کا گلا چاک کروجلد ہاں خاتمۂ پنجتن پاک کرو

About this couplet

This is couplet 31 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۱ / ۵۵