آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

مجھ کو حیدرؔ سے غرض ہے نہ محمدؔ سے ہے کامرو دیں محبوبِ خدا ہووے خوشی حاکمِ شامدولتِ فاطمہؔ لے جاؤں میں پاؤں انعامروح حیدرؔ کی ہو بے چین، مجھے ہو آراممنہ نہ میں دولتِ دنیا سے کبھی پھیروں گاآج زہراؔ کے کلیجے پہ چھری پھیروں گا

About this couplet

This is couplet 38 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۸ / ۵۵