آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
تیز کرتا ہوا خنجر کو گیا شہ کے قریںآسماں ہل گیا تھرا گئی مقتل کی زمیںرو رو چلانے لگی زینبِؔ ناشادِ حزیںغش میں بھی گھیرے ہیں، ہے ہے مرے بھائی کو لعیںرحم زہراؔ کے پسر پر نہیں کھاتا کوئیخاک سے بھی نہیں زخمی کو اٹھاتا کوئی
About this couplet
This is couplet 39 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۳۹ / ۵۵