آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

کس سے فریاد کروں، جا کے میں دکھیا ہے ہےنہ محمدؔ ہیں نہ حیدرؔ ہیں نہ زہرا ہے ہےلاکھ دشمن ہیں مرا بھائی ہے تنہا ہے ہےتیغوں سے کٹتا ہے، زہراؔ کا کلیجا ہے ہےسروِ گلزارِ رسالت کو قلم کرتے ہیںہائے سید پہ، مسافر پہ ستم کرتے ہیں

About this couplet

This is couplet 40 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۰ / ۵۵