آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
برچھی آ کر کوئی پہلو میں لگا جاتا ہےمارتا ہے کوئی نیزہ تو غش آجاتا ہےبڑھتے ہیں زخمِ بدن، زور گھٹا جاتا ہےبند آنکھیں ہیں، سرِ پاک جھکا جاتا ہےگردِ زہراؔ و علیؔ گریہ کناں پھرتے ہیںغل ہے گھوڑے سے امام دو جہاں گرتے ہیں
About this couplet
This is couplet 5 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵ / ۵۵