آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

گرد زینب کے تھا ناموس پیمبر کا ہجومبانو روتی تھی، کھڑی پیٹتی تھی سر، کلثومکہتی تھی دیکھ کے میداں کو سکینہ معصوماے پھوپھی! نرغۂ اعدا میں ہیں شاہِ مظلومجاؤں گی اب میں ٹھہرنے کی نہیں آپ کے پاسشمرؔ خنجر لیے جاتا ہے ، مرے باپ کے پاس

About this couplet

This is couplet 41 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۱ / ۵۵