آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
باپ کے پاس سے ، جا کر اسے سرکاؤں گیجوڑ کر ہاتھوں کو منت سے میں سمجھاؤں گیاپنے بابا کی میں چھاتی سے لپٹ جاؤں گیخیمے تک ان کو سنبھالے ہوئے لے آؤں گیبھوکے پیاسے، مرے بابا کو نہ مارے کوئیان کے بدلے، مرا سر تن سے اتارے کوئی
About this couplet
This is couplet 42 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۲ / ۵۵