آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

کتنا روکا اسے بانو نے پہ ہرگز نہ رکیچھوٹے سے ہاتھون سے سر پیٹتی میداں کو چلیپیچھے سر کھولے ہوئے خیمے سے زینبؔ نکلیپہونچی رن میں تو سکینہؔ یہ عمر سے بولیاو لعیں حیدرِؔ کرار کی پوتی ہوں میںرحم کر! مجھ پہ کہ بِن باپ کی ہوتی ہوں میں

About this couplet

This is couplet 43 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۳ / ۵۵