آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
دیکھ غربت کو مری کر مرے بچپن پہ نظرباپ مارا گیا میرا تو جیوں گی کیوں کر؟سر پہ آوے گی یتیمی تو میں جاؤں گی کدھر؟میں تو ہوں باپ کی شیدا مرا عاشق ہے پدرباپ بن ایک دم آرام نہ آوے گا مجھےکون پھر رات کو چھاتی پہ سلاوے گا مجھے
About this couplet
This is couplet 44 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۴ / ۵۵