آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

ہنسلیاں اپنی گلے سے تجھے دیتی ہوں اتارلے مرے کان کا دُر، پر مرے بابا کو نہ مارہاتھوں کو جوڑتی ہوں میں ترے آگے ناچارمنع کردے کوئی بیکس کو نہ مارے تلوارگھر میں جو کچھ زر و زیور ہے، وہ لادوں گی میںجان بابا کی بچے گی تو دعا دوں گی میں

About this couplet

This is couplet 45 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۵ / ۵۵