آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
بھیڑ میں مجھ کو نظر آتے نہیں بابا جاںاتنا کہہ دے کہ سرک جائیں یہ سب بے ایماںگرد پھر پھر کے، میں ہوں اپنے پدر کے قرباںجا کے دیکھوں گی، بدن پر ہیں لگے زخم کہاںدمِ آخر تو بھلا کام میں آؤں ان کےاپنے کرتے سے لہو منہ کا چھڑاؤں ان کے
About this couplet
This is couplet 46 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۶ / ۵۵