آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
کتنا کہتی رہی وہ بنتِ شۂ عرشِ جناباس ستمگر نے دیا کچھ نہ سکینہؔ کو جوابپیٹ کر سر کہا زینبؔ نے کہ او خانہ خرابتجھ کو آتا نہیں کچھ روحِ پیمر سے حجابظلم مت کر اسد اللہ کی جائی ہوں میںننگے سر پردے سے باہر نکل آئی ہوں میں
About this couplet
This is couplet 47 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۷ / ۵۵