آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
میری اماں کا ہے مشہور جہاں میں پردابعدِ رحلت بھی جنازہ نہ کسی نے دیکھااس کی بیٹی ہوں، ترے ظلم سے ، یہ وقت پڑاسر برہنہ ہوں، گریباں بھی ہے کرتے کا پھٹامنہ کو اللہ و پیمبر سے چھپاتا ہے تومیں تو فریادی ہوں، اور آنکھ چراتا ہے تو
About this couplet
This is couplet 48 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۸ / ۵۵