آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
مارا جاتا ہے ترے سامنے زہراؔ کا پسردیکھتا ہے تو یہ تلواریں ہیں پڑتی کس پرتیر کس کو لگے غربال ہوا کس کا جگرذبحِ کرنے کو کسے کھینچے ہے ظالم خنجردلِ زہرا، جگر شیرِ خدا، کٹتا ہےظلم سے تیرے، محمدؔ کا گلا کٹتا ہے
About this couplet
This is couplet 49 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۴۹ / ۵۵