آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

قتل مظلوم کو کیوں کرتا ہے، بے جرم و گناہاب تلک میں نے بہت صبر کیا ہے واللہدل جلی ہوں میں ابھی سینے سے کھینچوں گر آہتو بی جل جائے، تری فوج بھی ہو خاک سیاہبد دعا دوں میں تو نازل ابھی آفت ہووےسر کے بالوں کو جو کھولوں تو قیامت ہووے

About this couplet

This is couplet 50 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۰ / ۵۵