آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

گرتے ہیں قطرۂ خوں زخمِ جبیں سے پیہمدستِ مجروح سے کھنچ سکتے نہیں تیرِ ستمفکر ہے بخششِ امت کی کچھ اپنا نہیں غمکرتے ہیں شکرِ خدا خشک زباں سے ہر دمہے عبا تیروں سے غرباں قبا گلگوں ہےہونٹ یا وقت سے زخمی ہیں دہن پر خوں ہے

About this couplet

This is couplet 6 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۶ / ۵۵