آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے
غش میں حضرت نے سنے جبکہ یہ زینبؔ کے سخنکھول کر دیدۂ پرخوں کو اٹھائی گردندیکھا سر ننگے کھڑی روتی ہیں مقتل میں بہنبنتِ زہراؔ کو پکارے یہ شہنشاہِ زمنکیا کیا تم نے کہ پردے سے کھلے سر نکلیںجیتے جی میرے سر پردے سے باہر نکلیں
About this couplet
This is couplet 51 of 55 in “آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵۱ / ۵۵