آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

کس کو سمجھاتی ہو، کوئی نہ سنے گا فریادباز آئے گا نہیں، قتل سے میرے جلادجتنا تم پیٹتی ہو، اور لعیں ہوتے ہیں شادحشر کے روز خدا دیوے گا اس خون کی دادشوق مرنے کا ہے، سر تن سے جدا ہونے دوجاؤ گھر میں، مجھے امت پہ فدا ہونے دو

About this couplet

This is couplet 52 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۲ / ۵۵