آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

گود میں میری سکینہؔ کو اٹھاؤ ہمشیرکوئی اصغر کی طرح مار نہ بیٹھے اسے تیرپھر یہ بیٹی کو پکارے ترے صدقے شبیرؔتو بھی جا ساتھ پھوپھی جان کے اب اے دلگیروقتِ طاعت ہے ذرا یادِ خدا کر لیویںہم بھی اب آتے ہیں، سجدے کو ادا کر لیویں

About this couplet

This is couplet 53 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۵۳ / ۵۵