آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

زیں سے ہوتا ہے جدا دوشِ محمد کا مکیںچمنِ فاطمہ کا سرو ہے مائل بہ زمیںبرچھیاں گرد ہیں اور بیچ میں ہیں سرورِ دیںہے یہ نزدیک گرے مہرِ نبوت کا نگیںپاؤں ہر بار رکابوں سے نکل جاتے ہیںیا علیؔ کہتی ہے زینبؔ تو سنبھل جاتے ہیں

About this couplet

This is couplet 7 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷ / ۵۵