آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

لاکھ تلواریں ہیں اورایک تنِ اطہر ہےایک مظلوم ہے اور ظالموں کا لشکر ہےسیکڑوں خنجرِ فولاد ہیں اور اک سر ہےنہ کوئی یار، نہ ہمدم، نہ کوئی یاور ہےباگ گھوڑے کی لٹکتی ہے، اٹھا سکتے نہیںسامنے اہلِ حرم روتے ہیں، جا سکتے ہیں

About this couplet

This is couplet 8 of 55 in “⁨آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۸ / ۵۵