نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

دھار ایسی کی رواں ہوتا ہے دھارا جیسےگھاٹ وہ گھاٹ کہ دریا کا کنارا جیسےچمک ایسی کہ حسینوں کا اشارا جیسےروشنی وہ کہ گرے ٹوٹ کے تارا جیسےکوندنا برق کا شمشیر کی ضو میں دیکھاکبھی ایسا نہیں دم خم مہ نو میں دیکھا

About this couplet

This is couplet 72 of 102 in “⁨نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۲ / ۱۰۲