نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
پہلے تیروں سے کمانداروں نے چھاتی چھانینیزے پہلو پہ لگاتے تھے ستم کے بانیسر پہ تلواریں چلیں، زخمی ہوئی پیشانیخوں سے تر ہو گیا حضرت کا رخِ نورانیجسم سب چور تھا، پرزے تھے زرہ جامے کےپیچ کٹ کٹ کے کھلے جاتے تھے عمامے کے
About this couplet
This is couplet 93 of 102 in “نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۹۳ / ۱۰۲