فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

اب شہر میں اک دم ہے ٹھہرنا مجھے دشوارمیں پا بہ رکاب، اور ہو تم صاحبِ آزارپھر آتا ہے وہ گھر میں، سفر میں جو ہو بیمارتکلیف تمہیں دوں یہ مناسب نہیں زنہارغربت میں بشر کے لئے سو طرح کا ڈر ہےمیرا تو سفر رنج و مصیبت کا سفر ہے

About this couplet

This is couplet 33 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۳ / ۱۱۴