فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

لُو چلتی ہے خاک اڑتی ہے گرمی کے ہیں ایامجنگل مین نہ راحت، نہ کہیں راہ میں آرامبستی میں کہیں صبح، تو جنگل میں کہیں شامدریا کہیں حائل، کہیں پانی کا نہیں نامصحّت میں گوارا ہے جو تکلیف گذر جائےاس طرح کا بیمار نہ مرتا ہو تو مرجائے

About this couplet

This is couplet 34 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۳۴ / ۱۱۴